Roza Rakhne Ki Niyat and Roza Kholne Ki Niyat with Translation:
Translate this blog into your own language through google translation
افطاری اور سحری کا وقت کیا ہے ؟
رمضان المبارک اور اس کے علاوہ جو بھی روزے ہیں ان میں سحری اور افطاری کا وقت اللہ تبارک
و تعالی نے قرآن پاک کے اندر بیان فرما دیا تو چونکہ یہ قرآن پاک کے اندر موجود ہے تو اس کے بعد مزید
کسی دلیل کی حاجت یا مزید کسی تشریح یا وضاحت کی حاجت رہتی نہیں ہے.
سحری کا وقت کیا ہے؟
طلوع فجر جو ہے یہ سحری کا اختتامی وقت اللہ تعالی نے بیان فرمایا ہے قرآن پاک کے اندر ارشاد فرمایا گیا ہے.
ترجمہ:" اور کھاؤ پیو یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری (رات کی) سیاہ دھاری سے الگ نظر آنے لگے"
تو طلوع فجر جو ہے یہ قرآن پاک میں فرما دیا گیا کہ سحری کا اختتامی وقت ہے.اور جیسے ہی طلوع
فجر ہو تو سحری کا وقت ختم ہو جائے گا اور فجر کی نماز کا وقت شروع ہو جائے گا.
افطاری کا وقت کیا ہے؟
افطاری کا وقت کیا ہے وہ بھی اللہ پاک نے قرآن پاک کے اندر بیان فرما دیا اسی آیت کے
اگلے حصے میں کہ اللہ پاک کے ارشاد فرماتا ہے:
ترجمہ :"پھر روزہ (رکھ کر) رات تک پورا کرو"
تو گویا رات جب شروع ہو جاتی ہے تب روزے کا وقت ختم ہوجاتا ہے اور وہ افطاری کا وقت
ہے. اب رات کی ابتدا کب سے ہوتی ہے تو یہ ہر آدمی جانتا ہے کہ رات کی ابتداغروب آفتاب سے
ہوتی ہے. سورج جب ڈوب جاتا ہے تو اس وقت سے رات کی ابتدا ہو جاتی ہے گویا غروب
آفتاب افطاری کا جو ہے یہ افطاری کا وقت ہے.
نوٹ :
تو سحری اور افطاری دونوں کے اوقات قرآن پاک کے اندر واضح طور پر بیان کر دیئے گئے ہیں.
اب اس میں جس آدمی کے لئے یہ ممکن ہے کہ وہ خود طلوع فجر ہوتے ہوئے دیکھے وہ خود اپنی
آنکھوں سے دیکھ لے یہ سب سے بہترین طریقہ ہے اور اسی طرح غروب آفتاب کوئی اگر
خود اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے اور اس کے لیے دیکھنا ممکن ہے اور وہ دیکھ سکتا ہے تو بہت
اچھی بات ہے ورنہ یہ ہے کہ جو مستند محققین اور اسی شعبے کے ماہرین ہیں انہوں نے
سحری اور افطاری دونوں کے اوقات کو اپنے مشاہدے اور سائنسی بنیادوں کے اوپر جو مرتب
کر دیا ہے. تو اب جس مستند اورصحیح آدمی کا کہ جس پر پورا اعتماد ہو کہ اس نے سحری اور
افطاری کے وقت صحیح نکال دیے ہیں. اس پر اعتماد کرتے ہوئے اس پر افطار کیا جا سکتا ہے.
باقی یہ ہے کہ دس منٹ لیٹ یا اس سے زیادہ لیٹ تو اس کے ساتھ باہر حال قرآن پاک کی آیت
مبارکہ ہے اس کے اندر اس طرح کی کوئی چیز بیان نہیں کی گئی ہے کہافطاری کے وقت میں
دس منٹ مزید گزرنے چاہیے یا سحری کے وقت سے دس منٹ پہلے کھانا پینا بند کر دینا چاہیے ہاں
اگر کوئی اختیاطی طور پر دو تین منٹ کی احتیاط کر لیتا ہے تو وہ احتیاط کرنا درست ہے کہ بازوکات
اس کے مشاہدے میں غلطی ہو سکتی ہے کہ بازوکات کا اعلان کرنے والا غلطی کر سکتا ہے
بازوکات یہ ہے کہ لقمہ منہ میں رکھ کر چبا رہا ہے اور اتنی دیر کے اندر سحری کا وقت ختم ہو جاتا
ہے تو اس طرح کے مسائل کی وجہ سے احتیاط کے اندر ہے کہ دو تین منٹ سحری کے اندر یا
ایک آد نیٹ افطاری کے اندر وہ احتیاط کر لیتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن بلاوجہ تاخیر
کرنا جو ہے یہ مناسب نہیں ہے حدیث مبارک کے اندر اس سے منع فرمایا گیا ہے.
سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان مبارک ہے :" کہ میری امت ہمیشہ خیر اور بھلائی پر رہے گی
جب تک افطار میں جلدی کرے گی" تو لہٰذا افطار کے اندر جلدی کرنا جو ہے یہ حدیث مبارک کے
اندر مطلوب ہے اور اس جلدی سے مراد یہی ہے کہ ایک آد منٹ کی احتیاط کے بعد اب بلاوجہ
تاخیر نہ کی جائے یعنی اب یوں نہ کیا جائے کہ 15 منٹ 20 منٹ آدھا گھنٹا وہ افطاری کے اندر
تاخیر کر دے.
افطار کی دعا کب پڑھنی چاہیے؟
افطار کے حوالے سے جو ایک مشہور دعا ہے. یہ جو دعا ہے یہ اس وقت پڑ ہی جاتی ہے جب آپ روزہ افطار کر
لیں جیسے آپ نے کھجور کھائیں اور روزہ افطار کرلیا کیونکہ اس میں کلیمات ہی یہی ہیں کہ:"اےاللہ میں
نے تیرے لئے روزہ رکھا اور تجھ ہی پر بھروسہ کیا اور تیرے ہی رزق سے افطار کیا" تو جب افطار
کر لیتے ہیں. اس وقت یہ کلمات کہہ کر آپ دعا پڑھ لیا کریں اور بہر حال جو دعا افطاری سے پہلے مانگی
.جاتی ہیں. اللہ کی بارگاہ میں دعا ہے اور بالکل یہ خاص وقت ہے اس وقت بھی دعا مانگنی چاہیے
لیکن جب آپ روزہ افطار کر لیں تو اس کے بعد دعا مانگنے کی بہت فضیلتیں ہیں. اس وقت اللہ پاک
سے اپنی بخشش و مغفرت کی دعا مانگتے رہنا چاہیے دیگر اور بھی جو اپنی حاجات ہیں ان کے لیے دعا
مانگیں کیوں کہ روزہ دار جب روزہ افطار کرتا ہے اللہ پاک اسے ایک یہ فرحت اور خوشی عطا فرماتا ہے
اور اس روزے دار کی دعائیں بھی رب کی بارگاہ میں قبول ہوتی ہیں. تو لہذا یہ وقت صرف کھانے پینے
میں نہیں لگانا چاہیےآپ روزہ افطار کریں کچھ چیزیں آپ کھائیں لیکن ساتھ ساتھ دعا کو نہ بھولیں
.اس وقت آپ اللہ پاک سے دعا بھی مانگتے رہیے
دعا سے کیا مراد ہے؟
دعا کا مطلب ہے 'پکارنا' مسلمان اسے ایک گہری عبادت سمجھتے ہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں
." روایت ہے کہ: "دعا بذات خود ایک عبادت ہے"
. ہماری زندگی میں دعا کی اہمیت اور دعا مانگنا ہمارے لیے کتنا ضروری ہے ہر مسلمان اچھی طرح جانتا ہے
کیوں کہ جب ہمیں کوئی پریشانی ہو یا کوئی تکلیف ہو تو ہمارے ہاں اللہ پاک سے آسانی مانگنے کا صرف ایک دروازہ
نظر آتا ہےاور وہ دروازہ دعا ہے. حدیث پاک میں آتا ہے: " دعا مومن کا ہتھیار ہے دین کا ستون اور زمین و
.آسمان کا نور ہے ". جس کی عبادت کی اتنی اہمیت کو تو اس کے آداب کا خیال رکھنا بھی کتنا ضروری ہوتا ہے
دعا کے کچھ آداب :
1-سب سے پہلے دعا کے لئے بدن لباس اور جگہ کو پاک صاف کر کےاطمینان کر لیجئے.
2-باوضو قبلہ روخ باادب بیٹھ جائے.
3-دل و دماغ کو غیرضروری خیالات سے پاک کر کے خوب حاضر کر لیجئے کےغافل کی دعا قبول نہیں ہوتی.
4-نگاہیں نیچی رکھتے کہ دعا کے وقت ادھر ادھر دیکھنے سے نظر چھن جانے کا خطرہ ہے.
5-دعا کے اول و آخر میں اللہ پاک کی حمد اور درود پاک پڑھیے.
6-اللہ پاک کے مبارک نام صفات آسمانی کتابوں فرشتوں انبیائے کرام اور اولیاء کرام علیہم السلام کے
وسیلہ سے دعا مانگیں. دعا کے دوران ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے سینے کندھے یہ چہرے کی سیدھ میں رہیں
یا اتنے بلند کے بغل کی سفیدی ظاہر ہونے لگے.
7- ہر صورت میں دعا کے دوران ہتھیلیاں پھیلا کر رکھیے کہ دعا کا قبلہ آسمان ہے.
8-دعا کے بعد دونوں ہاتھ چہرے پر پھیر لیجئے.
9-تو دعا کے ان آداب کو خود بھی یاد رکھیے ان پر عمل کیجئے اور اسے دوسروں تک پہنچانے کے لیے شئیر کیجئے.
